ز:- زمیں کی اکسیر ہر شے کدے آدمی فہم اشیاء رکھے کا ہتھ ماں مٹی بھی ہوئے سونو، ہر اک شے دوا شفاء رکھے اُس کو زمیں اسمان میں، قدم فضاء رکھے کریں ملائکہ �
ادبی ذخیرہ
کلام اور ادبی تخلیقات
شاعری، بیت، نظم، اور دیگر ادبی تخلیقات کو صاف اور آرام دہ انداز میں دیکھیے، تلاش کیجیے، اور اپنے پسندیدہ شاعر تک پہنچئے۔
نمایاں کلام
ز:- زمیں کی اکسیر ہر شے کدے آدمی فہم اشیاء رکھے
ز:- زمیں کی اکسیر ہر شے کدے آدمی فہم اشیاء رکھے کا ہتھ ماں مٹی بھی ہوئے سونو، ہر اک شے دوا شفاء رکھے اُس کو زمیں اسمان میں، قدم فضاء رکھے کریں ملائکہ �
مطالعے کے لیے منتخب کلام
صفحہ 28 از 38
ر:- رنگ برنگ کا پھل کھلیں سوہنو انھاں کے نال گلزار دیں ماں تے باپ کا لوک سارا، بہناں بھائیاں کوٹبر پر یوار دیں بھانویں کئیں زبان تے دین رکھیں، رنگ شکل�
ذ:- ذات ہے ذات تے غرض، ہے عرض، غرض عارضی اصل ہے ذات لو کو ہوئے عرض ہمیش بالغیر قائم، قائم ذات خود ہوئے بالذات لو کو توڑی ہی عرض موجود ہوئے جد تک ذات م�
د:- دل ہے ایک ہی آدمی کو ایکن دل کو ایک ہی بار سو بھے ایکن کا ناں کو ورد کرنو، ایکن یار کو ایک نگار سو بھے ایکن ہی نال پریت لانی، ایکن نال ہی قول اقرا�
خ:- خُد اجانے اُس کے نال مھاری نسبت ذرہ کی تے آفتاب کی ہے نسبت سایہ تے اصل کی کہوں اِس نایاہ و اہ چاہنی تے ماہتاب کی ہے نسبت ٹیپاسُمندر کی ڈروں کہتاں،�
ح:- حُسن کو گرم بازار جدیک، عشق کا گا کہ اُس کو خریدار رہ گو شمع بلتی رہ گی جد توڑی، تد توڑی پٹنگ نثار رہ گو باغاں بناں ماں کھلیں گا پھل جدیک، بھور پھ�
ج:- جہڑا وجود ماں شک نہیں ہے، وہ ہے اپنو مھارو وجود جگ ماں جس نے بخشیو یہ وجود ہم نا، پہلاں کیوں نہیں وہ وجود جگ ماں بتی بگڑی نہیں کائے چیز آپے، ہوتی �
ث:- ثبوت تیں ہی دعوٰہ ہوئے ابت، دعوٰہ ہے دلیل ہے کار ہوئے نِرا دعوہ کی گل کو مُل کوئے نہیں، دعوا نال دلیل درکار ہوئے دعوٰہ کرے جے کوئے انسانیت کو، سون�
ت:- تیر چلاؤ نہ دُشمنی کا، تھارے اپنے لگیں گا تیر مُڈ کے کنڈا را ہو نہ کسے کا راہ ماں بھی تھارے چُھیں گا بن تقدیر مُڈ کے دُکھ دیہو دُعا نہ کسے ناں بھی�
ب:- بیجو محبت کو نیچ مٹھو جس تیں جمیں محبت پیار جگ ما بیجو نیچ پیار انسانیت کا جس تیں کھلیں تے پھلیں گلزار جگ ما بیجو نیچ نہ دُشمنی نفرتاں کو اس تیں ج�
و:- وصل فراق ہیں دوئے پیارا تحفہ دوئے مُحبت پیار کا ہیں ہوئے پیار تاں وصل کی لوڑ ہوئے اُلفت ہوئے تاں دیدار کا ہیں میٹھا پیار ماں ہجر کا سیک لگیں مزہ ی�
ن:- نہیں مُحبت جہو کوئے رشتو جس ماں اتنو درد احساس ہوئے ہوئے سجناں دواں ماں جان ایکو پیو بگھ بگھ خون تے ماس ہوئے مصريعقوب کعنان سونگھے اُس کی بوتے ملن�
م:- مُحبت ہے ایک عظیم قوت جس کی کشش تمام جہان ماں ہے گھربار تیں بدھ ہے کشش اس کی یاہ ہی کشش زمین اسمان ماں ہے کرے مُحبت کے گرد دُنیا سدا اسے طواف دورا�
الف:- ایک اکائی انسانیت ہے جس ماں دوجا کو کوئے امکان نہیں ہے دھرتی ساری لوکاں کی ذات اک ہے، دوجی کو ناں نشان نہیں ہے ذات ہے اصل ماں آدمی کی ، بکھری ذا�
ی:- یاد تیری کائینات میری ، تیری یاد ہے دین ایمان میرو یاد عزیز متاع میری، تیری یاد حسین جہان میرو یاد تیں دل آباد ہر دم ، تیرا ذکر تیں شیریں بیان میر�
ہے:- حقیقت اک ذات تیری سب گجھ ہور طلسم مجاز دسے زندگی میری کو ساز جہڑو وہ بھی مناں تے تیرو ہی ساز دسے باہجھ ہوں کے ہوں نہیں کجھ بھی متاں اپنو آپ بھی ر�
ل:- لوکاں کی ہے پسند اپنی ان کا ہیں اصول شعار اپنا رکھیں اپنا تول تے ناپ جن تیں تولیں منیں اخلاق کردار اپنا سمجھیں یہ نا سمجھ ہے رب کا بھی یہ ہی ہیں م�
ق:- قیس ہی عشق کو ہوئے مُلزِمٌ حُسن لیلی کے سر الزام کیوں نہیں سُو لی چاڑھے منصُور ناعشق جس کو اُس کا حُسن کی گل کلام کیوں نہیں جس کی زُلف نے کیواسیر �
ف:- فکر ارادہ خیال مھارا تیرا ہتھ ماں خود کار نہیں ہے مھارا دل ، دماغ سمیت مھارے خود آزاد تے خود مختار نہیں ہے پردہ بچھا تے تار ہلائے توں ہی ہلتی آپ ک�
غ:- غیر کیوں کسے نالوک سمجھیں تیری خلق ماں کوئی بھی غیر نہیں ہے تیناں مچہ پیاری ہے خلق اپنی کسے کے نال بھی بیرنہیں ہے سارو لامکان ، مکان تیرو اک مسیت �
ع:- عشق منصور کو ہوئے بھانویں مجناں لیلی کو راز نیاز ہوئے رانجھو، ہیر یا صاحباں ہوئے کوئے سرمد ہوئے محمود ایاز ہوئے کوئے ہوئے پر ہوئے محبت سچی دل ماں �
ظ:- ظاہر موجود ہر جگہ ماں تُوں خود مھاری ہی اکھاں ماں لو نہیں ہے سجے کھبے تے آمنے سامنے تُوں کہوں کس طرح رو برو نہیں ہے تیرے باہجھ نہیں ہور موجود کوئے�
ط:- طور ہی نہیں جلوہ گاہ تیری جلوہ گاہ تے بلد امین بھی ہے یہ ثرب منی، عرفات، عفادہ، مروہ، جودی، کوہ زیتون تے تین بھی ہے یہ ہیں تیرا پیار کیں جگہ ساریں�
ض:- ضابطات کی نہیں پابند اُلفت بدھیو قانون کو پیار کوئے نہیں نہیں ہے پریت کی ریت ماں دین مذہب نسل نسب کی گل گفتار کوئے نہیں کسے رنگ زبان کو کوئے قصو ،�