ص:- صبر آرام کے ناٹ چلنو مندلفہ آواہ رات گذارتی ہے چنو تم پنجاہ پوری جہڑی تم نے شیطان نا مارنی ہے وچ عبادت کے رات پوری مغب نال و اُہ عشاہ گذارتی ہے پئ�
ادبی ذخیرہ
کلام اور ادبی تخلیقات
شاعری، بیت، نظم، اور دیگر ادبی تخلیقات کو صاف اور آرام دہ انداز میں دیکھیے، تلاش کیجیے، اور اپنے پسندیدہ شاعر تک پہنچئے۔
ص:- صبر آرام کے ناٹ چلنو مندلفہ آواہ رات گذارتی ہے چنو تم پنجاہ پوری جہڑی تم نے شیطان نا مارنی ہے وچ عبادت کے رات پوری مغب نال و اُہ عشاہ گذارتی ہے پئ�
مطالعے کے لیے منتخب کلام
صفحہ 10 از 38
ش:- شامل ہویا وچ حاجیاں کے آنج دِن توں ہے تھارو نام حاجی رو کے رات دُعا منگیو منگیں جس راہ ہور تمام حاجی کمل معاف کرا آئیو چلنو ہے اُتوں وقت شام حاجی �
س:- سمجھ کرنی ہر وقت تم نے نائیں چھوڑ دو کوئے ارکان صدقے ظہرہ، عصر، ناٹے مگرب، عشاہ پڑھنی دو جادِ ن کی فجر قُربان فجر توں تم روان ہویو جایو طرف عرفات �
د:- دیکھو جا کے تم سارا سوہنو حرم تے سب مینار جا کے دھکو مار نہیں طواف کرتاں حجرا اسود ناں دئیو بوسہ چار جا کے بعد دُعا ضرور کرنی زم زم پی لینو ٹھنڈو �
خ:- خبر رکھی چارے تم نے مرکز شُورتا نال مرور کافی کئی نال صدیقاں کے مست ویں گا کئی پھرتا رہیں مغرور کافی پنچ دے کے گڈی بیٹھ جانو حرم پاک مکہ اُتوں دور�
ح:- حج پر جان کی کرو تیاری کرے رب وہ حج نصیب تم ناں کی چوکی ہے بہت مشکل پیدل لنگو اُتوں قریب تم ناں جموم کے بہت نیڑے سجے مُڑیو دسوں عجیب تم ناں عُمر ا�
ز:- زور نہیں کسے پر فول وچ طواف یا وچ منلی جا کے اُٹھ ذوالج نا بنھ احرام حاجی رات ٹھہریں گا رات منلی جا کے کپڑا کی چادر دو ویں گی کیا غریب تے کیا بادش�
ر:- رنج کے کرو دیدار سوہنو کعبہ پاک کو دِن تے رات جا کے اُٹھے پہر عبادتاں وچ رہنو کرو طواف سوہنو پھیرا ساتھ جا کے وقت پہلاں جا کے دیکھ آئیو جبل رحمت ت�
ذ:- ذکر اذکار کے وچ رہنو ہر جگہ تے ہر مقام جانی کول دُعا کرنی پڑھیو طفل نہ کرو آرام جانی دیکھو شہر سارو مکہ پاک سوہنو نُوری مکل کو ہے انتقام جانی مُلک�
ج:- جان کے بچوں چوکیاں توں جہا غیر قانون بھرا مارا آیا دیکھ کے سب ہم دُکھ مشکل کرے دور سب دُکھ خُدا مارا حرم بیٹھ درود سلام پڑھنو کہنو عیب معاف کرا ما�
ث:- ثابتی رکھنو صدق اپنو ستاں مسجدراں وچ وی جا آئیو نفل دو گزار یو قبا مسجد صدقے ہوں دُعا فرما آئیو سارا شہر مدینہ کی سیر کرنی مل کے گُھجور وی کھا آئی�
ت:- تم ناں گل ضرور دسوں عُمرا بعد تم نے جبلِ نُور جانو جنت اعلیٰ ناے نمازِ ثور جانو سوہنا نبی کے پاک حضور جانو جنت بقی کے ناٹ بلال مسجد ، مسجد قبل قین�
ب:- بد کے سیتھ منگو حرم پاک وہ رب رحمان کو ہے منگو ہتھ اُٹھا کے خُدا کولوں شیود خاص یہ ہر انسان کو ہے صبر نال کرو ارکان پُرا کہنو خاص یہ پاک قُرآن کو �
الف:- اللہ کی ذات کی شان سونی دیکھو حاجیو حرم شریف جا کے وچ جہاز احرام لپیٹ لینو ہر وقت لہیک گذار جا کے ہوے عُمر و رب نصیب تم ناں کریو طواف تے سعی ہزا�
م:- موت کو وقت مقرر ایکو بچو کسے نے نہیں قضا کو لوں اُٹھو غازیو مرد میدان بن کے ڈریو کدے نہ حور جھا کو لوں قوم کو جنھاں نے لینو ڈرتا نہیں ویہ کسے بلا �
ل:- لیو حقوق ہُن کھس کے تم ، آپے دینونہیں کسے نے مال تم نا حق اپنا سارا ظالماں تیں کیو جنھاں نے پُخ بے حال تم نا نہیں کسے تیں گھٹ تم کسے گلوں دِتو رب �
ک:- کِت پیار جا بیٹھو لا کے ہجر فراق کیں لیک مناں گلی کوچے پھروں ہوں کم لی طعنہ دہیں اج لوک شریک مناں عُمر تیرو انتظار کیو رہ گی سیک تیری حشر تیک مناں�
ک:- کسر کہڑی ہُن رہی باقی ظُلم ستم کی بھی انہیا ہوگئی بند ہیں گُل ترقیاں کا ستیاناس تھاری ہر اِک جا ہوگئی غضب حقوق سب غاصباں نے میری قوم کیوں بے پرواہ�
ق:- قوم کی کشتی منجدھار ماں رہیں ، ہیں تیز تے نُند طوفان سارا سوچ بچار ہوشیار بن کے کرو اکٹھ تے بنو اِک جان سارا مند غیور جرار بن کے لیو ہتھ ماں تیر ک�
ف:- فکر کُچھ کرو اولاد کو وی کیو رب نے فرض خیال اُن کو دِتو درس توحید کو سبق ایسو پکو ہوے جس تیں استقلال اُن کو قلم تلوار کا جوہر سارا آوے قوم کے کم ک�
غ:- غفلتاں ماں گزری عُمر ساری کیوکل کو نہیں دھیان ہم نے سُتا رہیا پسار کے پیر سارا کیو قوم کو کیڈ زیان ہم نے نہیں اتحاد اتفاق مل کے دِتو دِلوں بِسار ق�
ض:- ضامنی کون دہیے عاشقاں کی بنیں دُکھاں کو کون بھیال وائے و بنیں ہمراز ہمدردیاں کو دہیے یار کو حُسن جمال وائے طُیِّئیں تار ملاپ کیں کون جوڑے کرے دِلا�
ص:- صاف انصاف کے نال دیے کہڑا جُرم کی ملے سزا وائے جُرم قصور حضور میرا کہڑی گل تیں ہویا خفا وائے عُمر تمام عُلام بن کے سمجھیں اج بھی بے وفا وائے تم نا�
ش:- شمع بن کے بلیں محفلاں ماں سڑھار ہیں پروانہ کا ڈار وائے تک یار کو حُسن جمال سوہنو ہوتا رہیں قربان نثار وائے رہیں بے ہوش بے نُرت ہو کے تک تک حُسن کو�