
مفتی فیض الوحید قاسمی
سوانح اور خدمات
ذیل میں دستیاب حصوں کے مطابق اس شخصیت کا تعارف، پس منظر، خدمات، تصانیف، اور سماجی ورثہ پیش کیا جا رہا ہے۔
زندگی کا مختصر خاکہ
پیدائش1964
ابتدائی زندگی
تعلیم
خدمات اور کیریئر
تصانیف اور کام
ورثہ
وفات01-06-2021
تعارف
مفتی فیض الوحید قاسمی رحمہ اللہ (1964 – 1 جون 2021) جموں و کشمیر کے نامور عالمِ دین، فقیہ اور مفسرِ قرآن تھے۔ آپ خصوصاً اس وجہ سے مشہور ہوئے کہ آپ نے پہلی مرتبہ قرآنِ مجید کا گوجری زبان میں ترجمہ اور تفسیر پیش کی۔ آپ نے جموں خطے، خصوصاً گوجر اور بکرول قبائل کی دینی، تعلیمی اور سماجی زندگی پر گہرا اثر چھوڑا اور اپنے دور کے ایک بڑے مذہبی رہنما کے طور پر پہچانے گئے۔
ابتدائی زندگی
مفتی فیض الوحید 1964 میں ضلع راجوری کی تحصیل تھنہ منڈی کے گاؤں دوداسان بالا (دودہسن بالا) میں ایک گوجر مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام حاجی کمل الدین تھا۔ گھر کا ماحول سادہ اور غریب مگر دین دار تھا، جہاں چرواہی، کھیتی باڑی اور پہاڑی زندگی عام تھی۔
بچپن ہی میں آپ یتیم ہو گئے اور والد کی شفقت سے محرومی نے آپ کے دل میں یتیموں اور مساکین کے لیے خاص ہمدردی پیدا کی۔ کم عمری سے ہی آپ قرآن، نماز اور مسجد کے کاموں کی طرف مائل تھے۔ شدید مالی تنگی کے باوجود علمِ دین حاصل کرنے کا جذبہ مضبوط رہا۔
تعلیم
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کے مکتب اور اسکول سے حاصل کی، جہاں اردو اور دینیات کی بنیادی تعلیم پائی۔ بعد ازاں مدرسہ کاشف العلوم تھنہ منڈی میں داخلہ لیا، جہاں عربی اور تجوید کی تعلیم حاصل کی۔
مزید تعلیم کے لیے آپ مظفر نگر (یوپی) کے مدرسہ تعلیم القرآن تشریف لے گئے اور وہاں حفظِ قرآن مکمل کیا۔ نوجوانی میں ہی آپ حافظِ قرآن بن گئے۔ اساتذہ آپ کی مضبوط یادداشت، سنجیدہ طبیعت اور مطالعے کے شوق کا ذکر کرتے تھے۔
بعد ازاں مدرسہ خادم الاسلام ہاپوڑ میں درسِ نظامی کی تعلیم حاصل کی، اور پھر دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لے کر حدیث، تفسیر اور فقہ کی اعلیٰ تعلیم مکمل کی۔ فراغت کے بعد آپ کے نام کے ساتھ "قاسمی" کا لاحقہ مشہور ہوا۔
بعد میں آپ نے ڈاکٹر بھیم راو امبیڈکر یونیورسٹی (آگرہ یونیورسٹی) سے اردو میں ایم اے بھی کیا، جس سے آپ کے علمی و ادبی اسلوب میں مزید نکھار آیا۔
خدمات اور کیریئر
تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ جموں واپس آئے اور 1992 میں مدرسہ اشرف العلوم جموں میں بطور مدرس مقرر ہوئے۔ آپ عربی، حدیث اور تفسیر پڑھاتے تھے۔ آپ کا اندازِ بیان سادہ، مدلل اور حالاتِ حاضرہ سے مربوط ہوتا تھا، جس کی وجہ سے آپ کے دروس خاصے مقبول ہوئے۔
1995 میں آپ نے بٹھنڈی جموں میں جامعہ مرکز المعارف (جامعہ معارف القرآن) کی بنیاد رکھی۔ اس ادارے کا مقصد غریب اور قبائلی بچوں کو دینی تعلیم فراہم کرنا تھا۔ وقت کے ساتھ یہ ادارہ ایک اہم دینی مرکز بن گیا اور آپ وہاں بطور چیف مفتی اور روحانی راہنما خدمات انجام دیتے رہے۔
1990 کی دہائی میں جموں و کشمیر کے حالات کشیدہ ہو گئے۔ اسی دوران آپ کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا۔ 1995 میں تقریباً گیارہ ماہ قید میں رہے، اور 1997 میں دوبارہ گرفتار ہو کر 2000 تک قید میں رہے۔
قید کے اس دور کو آپ نے ضائع کرنے کے بجائے مطالعہ، تدبر اور تصنیف میں صرف کیا۔ اسی زمانے میں آپ نے اپنی سب سے بڑی علمی خدمت انجام دی۔
تصانیف اور کام
آپ کا سب سے بڑا علمی کارنامہ قرآنِ مجید کا گوجری زبان میں پہلا مکمل ترجمہ اور تفسیر ہے، جو "فیض المنّان" کے نام سے معروف ہوئی۔
اس کتاب میں قرآن کے معانی کو سادہ گوجری زبان میں اس انداز سے بیان کیا گیا کہ عام گوجر مرد و عورت بھی بآسانی سمجھ سکیں۔ اس کام نے گوجری زبان کو دینی و علمی سطح پر نئی شناخت دی اور جموں کشمیر، ہماچل پردیش اور دیگر علاقوں کے گوجروں میں قرآن فہمی کو فروغ دیا۔
مفتی فیض الوحید نے اردو زبان میں بھی کئی علمی کتابیں تصنیف کیں، خصوصاً فقہی مسائل پر۔ ان میں شامل ہیں:
- پاکی کے مسائل قرآن و حدیث کی روشنی میں
- مریض و میّت اور وراثت کے احکام قرآن و حدیث کی روشنی میں
- سیرتِ نبوی ﷺ پر آسان اور عام فہم کتابیں
آپ کے دروس اور خطبات نے جموں، راجوری اور پونچھ کے دینی ماحول پر نمایاں اثر ڈالا۔
ورثہ
آپ صرف عالمِ دین نہیں بلکہ گوجر اور بکرول قبائل کے ایک بڑے سماجی مصلح بھی تھے۔ آپ نے تعلیم کے فروغ، فضول رسم و رواج کے خاتمے اور نوجوانوں کی اصلاح پر زور دیا۔
آپ نے ہزاروں قبائلی بچوں کی تعلیم میں مدد کی، انہیں مدارس اور اسکولوں میں داخل کروایا اور مالی معاونت فراہم کی۔ آپ کا ماننا تھا کہ اصل عزت علم اور تقویٰ میں ہے، نہ کہ دکھاوے میں۔
مئی 2021 کے آخر میں آپ شدید علیل ہوئے اور 1 جون 2021 کو تقریباً 57 سال کی عمر میں انتقال فرما گئے۔ آپ کی وفات کو جموں کشمیر میں ایک عظیم دینی اور سماجی نقصان قرار دیا گیا۔
مختلف مذہبی و سماجی رہنماؤں نے آپ کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور خصوصاً قرآن کے گوجری ترجمے کو ایک سنگِ میل قرار دیا۔
آپ کا سب سے بڑا علمی ورثہ "فیض المنّان" ہے، جو گوجری زبان میں قرآن کا پہلا ترجمہ اور تفسیر ہے۔ آپ کی فقہی کتابیں آج بھی مسلمانوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔
آپ کا نام گوجر اور بکرول معاشرے میں علم، اخلاص اور خدمت کی علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے، خطاؤں کو معاف فرمائے اور ان کی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔ آمین۔